استاد گلاب فقیر لاہوتی
سندھ کی عزاداری اور صوفی روایت کی معتبر آواز
"جس دھرتی سے شاہ عبداللطیف بھٹائی کی سُر اٹھی، جہاں سچل سرمست نے عشق کا درس دیا، اُسی سندھ کی گلیوں میں آج بھی ایک ایسی آواز گونجتی ہے جو دلوں کو جھنجھوڑ دیتی ہے ۔ وہ آواز ہے استاد گلاب فقیر لاہوتی کی۔"
سندھ : صوفیوں اور عاشقانِ اہلِ بیتؑ کی دھرتی
سندھ کی مٹی صدیوں سے صوفیوں، درویشوں اور اہلِ بیتِ رسولؑ سے محبت کرنے والوں کی پناہ گاہ رہی ہے۔ یہاں کی فضاؤں میں روحانیت، انسان دوستی اور عقیدت کی خوشبو اس طرح رچی بسی ہے کہ صدیاں گزر جانے کے باوجود یہ مٹی اپنی اصل سے جدا نہیں ہوئی۔ اسی مقدس دھرتی سے ایک ایسی شخصیت نے جنم لیا جو آج سندھ بھر میں نوحہ خوانی، عزاداری اور صوفی خدمت کی علامت بن چکی ہے ۔اور وہ شخصیت ہے استاد گلاب فقیر لاہوتی۔
کون ہیں استاد گلاب فقیر؟
استاد گلاب فقیر لاہوتی، ضلع شہید بینظیر آباد (نواب شاہ) کی سرزمین کے وہ روشن چراغ ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں سے بھی زیادہ عرصے سے غمِ حسینؑ کی شمع کو روشن رکھے ہوئے ہیں۔ وہ درگاہ سید حاجن شاہ بخاری، نواب شاہ کے موجودہ سجادہ نشین ہیں ۔ایک ایسے روحانی مرکز کے امین جو نسلوں سے اہلِ علاقہ کی روحانی تربیت اور رہنمائی کا سرچشمہ رہا ہے۔
ان کی ذات میں تین حیثیتیں بیک وقت جمع ہیں: ایک درویش سجادہ نشین، ایک درد بھرا نوحہ خواں، اور ایک زندہ روحانی روایت کے امین۔ ان کی محفلوں میں جو کوئی ایک بار شریک ہوتا ہے، وہ غمِ حسینؑ کی کیفیت سے ہمیشہ کے لیے متاثر ہو جاتا ہے۔
مرکزی ماتمی جلوس اور نواب شاہ کی عزاداری
نواب شاہ کی عزاداری کا ذکر استاد گلاب فقیر کے نام کے بغیر ادھورا ہے۔ وہ گزشتہ چار دہائیوں سے مرکزی مرتضوی امام بارگاہ کے مرکزی ماتمی جلوسوں میں نوحہ خوانی کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ حبِ علی مکان، غریب آباد اور دیگر علاقوں کے جلوسوں میں بھی ان کی موجودگی عزاداری کی روح کو تازہ رکھتی ہے۔
خاص طور پر شبِ عاشور کا جلوس ہو یا یومِ عاشور کا — ان کی آواز کے بغیر جلوس ویران لگتا ہے۔ نواب شاہ کے بوڑھے بزرگ بھی اور نئی نسل کے نوجوان بھی یکساں طور پر ان کی نوحہ خوانی سے جذباتی وابستگی رکھتے ہیں۔ شہر کی گلیوں، امام بارگاہوں اور چوکوں میں ان کی آواز کی بازگشت آج بھی محرم کی راتوں میں سنائی دیتی ہے۔
آواز :جو دل میں اتر جاتی ہے
استاد گلاب فقیر کی آواز کو جو لوگ ایک بار سن لیتے ہیں، وہ اسے کبھی نہیں بھولتے۔ ان کے انداز میں روایت کی سادگی، عقیدت کی گرمی اور درد کی وہ کیفیت ہے جو صرف سچے عاشقانِ اہلِ بیتؑ کو نصیب ہوتی ہے۔ وہ نوحہ نہیں پڑھتے ۔وہ غمِ کربلا کو زندہ کرتے ہیں۔
انہوں نے اپنی پرسوز آواز سے ان عظیم شعراء کے کلام کو نئی زندگی بخشی:
- میر انیس اردو مرثیہ نگاری کے شہنشاہ
- شہید محسن نقوی
- زوار حسین گوہر
- جوہر شاہ [سیّد محمد علی شاہ]
- اختر چنیوٹی
- یوسف علی یوسف ساجد
- سینگار علی سلیم
- قاری شبیر ضیاء
- سید عادل کاظمی
- جرار اکبرآبادی
- شاہان نقوی
ان کے پڑھے ہوئے نوحے جو آج بھی عزاداروں کی زبانوں پر زندہ ہیں، ان میں چند مشہور ترین یہ ہیں:
|
نوحہ |
شاعر |
|
دکھتے ہوئے دلوں کی صدا ماتمِ حسینؑ |
شہید محسن نقوی |
|
یاد زینبؑ کو جو عباسؑ کے بازو آئے |
شہید محسن نقوی |
|
جعفر تیار دے ویڑھے توں ھک محمل باہر آیا |
زوار حسین گوہر |
|
عباسؑ سا دنیا میں کوئی شیر نہیں |
سینگار علی سلیم |
|
حسینؑ دب نہیں سکتا |
سینگار علی سلیم |
|
بے ردّا شہر کی گلیوں سے گزر زینبؑ کا |
شہید محسن نقوی |
|
تاریخ میں دو بہنوں سے |
یوسف علی یوسف ساجد |
چار زبانوں کا سحر
استاد گلاب فقیر کی ایک خاص خوبی یہ ہے کہ وہ اردو، سندھی، سرائیکی اور پنجابی۔ چاروں زبانوں میں یکساں مہارت اور روانی سے نوحہ خوانی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی مقبولیت صرف سندھ تک محدود نہیں، بلکہ پنجاب، سرائیکی بیلٹ اور دیگر صوبوں کے عزادار بھی ان کے کلام سے دلی وابستگی رکھتے ہیں۔ مختلف زبانوں پر ان کی یہ گرفت سندھ کی ثقافتی تکثیریت کی بھی عکاسی کرتی ہے۔
ڈیجیٹل دور میں پیغامِ حسینؑ
استاد گلاب فقیر نے جدید دور کی ضرورت کو سمجھا اور اپنے پیغام کو گھر کی چاردیواری سے نکال کر دنیا کے کونے کونے تک پہنچایا۔ ان کا یوٹیوب چینل اور فیس بک پیج ہزاروں عقیدت مندوں سے جڑا ہوا ہے — جہاں محرم کے زندہ جلوس، نوحہ خوانی کی ویڈیوز اور مذہبی معلومات مسلسل شیئر کی جاتی ہیں۔
10 محرم اور 20 صفر کے مرکزی ماتمی جلوسوں کی لائیو کوریج بھی ان کے چینل پر دیکھی جا سکتی ہے۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ۔خواہ وہ خلیج میں ہوں، یورپ میں ہوں یا امریکہ میں — آن لائن ان کے نوحے سن کر کربلا کی روح سے جڑے رہتے ہیں۔
درگاہ :ایک روحانی مرکز
درگاہ سید حاجن شاہ بخاری محض ایک مزار نہیں بلکہ ایک زندہ روحانی مرکز ہے۔ استاد گلاب فقیر اس درگاہ کے سجادہ نشین کی حیثیت سے نہ صرف مریدین کی رہنمائی کرتے ہیں بلکہ صوفیائے کرام کے پیغامِ امن، محبت اور انسانیت کو عام لوگوں تک پہنچانے کا فریضہ بھی ادا کرتے ہیں۔ ان کی محفلوں میں ہر مسلک اور ہر طبقے کے لوگ آتے ہیں اور یہاں سے روحانی سکون لے کر جاتے ہیں۔
ایک نسل سے دوسری نسل تک
استاد گلاب فقیر کی خدمات کا سب سے بڑا ثمر یہ ہے کہ انہوں نے غمِ حسینؑ کو نئی نسل تک منتقل کیا۔ ان کے نوحوں میں پلنے والے بچے آج جوان ہو گئے ہیں اور وہ اپنے بچوں کو بھی یہی نوحے سنا رہے ہیں۔ اس طرح ایک روایت زندہ سے زندہ تر ہوتی جا رہی ہے۔
نواب شاہ کی گلیوں میں جب بھی محرم کی رات آتی ہے، استاد گلاب فقیر کی آواز صرف فضا میں نہیں گونجتی — وہ نسلوں کے دلوں میں بھی گونجتی ہے۔
خلاصہ : ایک زندہ روایت کا نام
استاد گلاب فقیر لاہوتی صرف ایک نوحہ خواں یا سجادہ نشین نہیں ۔ وہ سندھ کی عزاداری کی ایک زندہ تاریخ ہیں۔ ان کی شخصیت میں صوفی روایت، اہلِ بیتؑ سے محبت، خدمتِ خلق اور روحانی قیادت سب ایک جگہ جمع ہو گئی ہیں۔
ان کی آواز کربلا کے میدان سے اٹھنے والی آہ کی یاد دلاتی ہے۔ ان کی عاجزی درویشی کا آئینہ ہے۔ اور ان کی خدمت سندھ کی اس روحانی میراث کا تسلسل ہے جو شاہ لطیف سے شروع ہو کر آج بھی بہہ رہی ہے۔
سندھ کی مذہبی، ثقافتی اور روحانی شناخت کے اس قیمتی سرمایے کو ۔ استاد گلاب فقیر لاہوتی کو ہمیشہ عقیدت اور احترام سے یاد رکھا جائے گا۔
یا حسینؑ لبیک یا حسینؑ

.png)